اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ داعشی تکفیریوں نے تلعفر کے اپنے ہی خطیب جمعہ کو ابوبکر البغدادی کا نام لے کر رونے اور اس کی ہلاکت کی طرف ضمنی اشارہ کرنے پر زندہ جلا دیا۔
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صوبہ نینوا کے ایک مقامی ذریعے نے آج [اتوار 2 جولائی 2017] کو انکشاف کیا کہ تکفیری ـ صہیونی ٹولے نے تلعفر شہر میں اپنے ہی خطیب ابو قتیبہ کو خطبہ جمعہ کے دوران ابوبکر البغدادی کا نام لے کر رونے اور اس کی ہلاکت کی طرف ضمنی اشارہ کرنے کے جرم میں گرفتار کرکے 10 تکفیریوں کی موجودگی میں آگ کے بےرحم شعلوں کے سپرد کیا۔
مذکورہ ذریعے نے نام فاش نہ ہونے کی شرط پر السومریہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ابوقتیبہ ـ جسے ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کا راز فاش کرنے کی بنا پر کافی شہرت ملی تھی ـ جمعہ کے روز ہی گرفتار کرکے سنیچر کے دن نہایت بھیانک انداز میں موت کی سزا دی ہے۔
اس ذریعے نے کہا: ابوقتیبہ البغدادی کا قریبی ساتھی تھا جو گذشتہ جمعہ کے خطبے میں البغدادی کا نام لے کر روتا رہا اور پھر اس کی ہلاکت کی ضمنی طور پر تصدیق کی جس کی وجہ سے البغدادی کے سلسلے میں متعدد سوالات کا جواب ملا اور اس کے رویے میں مزید سوالات کو جنم لیا جس پر داعش ابتداء میں تو خاموش رہی اور بعد میں اسے گرفتا کرکے فتنہ انگیزی کا الزام لگایا۔
ہفتے کے دن یہ خبر خبررساں اداروں کی خوراک بنی تھی کہ تلعفر میں داعش نے ابوبکر البغدادی کے ایک قریبی ساتھی کو گرفتار کرلیا ہے۔
داعش کے ذرائع نے ابھی تک اس واقعے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰